Monday, 9 June 2014

قانونِ کرایہ داری ایکٹ 9 200

میاں محمد اشرف عاصمی

ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

قانونِ کرایہ داری کے تحت وطن عزیز میں جو ظلم روا رکھا جاتا رہا ہے اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ محرم کو مجرم بنا دیا جاتا رہا ہے موجودہ قانون کرایہ دار 2009 کے تحت Premises کو خالی کروانے کے لیے مالک کو بہت ہی بہتر انداز میں سہولت فراہم کی گئی ہے کہ اب وہ وقت دور نہیں جب کرائے دار مالک کا استحصال کرکے عمر بھر کے لیے اُسکو مالی اور ذہنی پریشانی کا
سبب بنتے تھے کا خاتمہ ہو سکے گا۔

سیکشن 5 Rented Punjab Premsises Act 2009)- ( کے تحت کوئی بھی لینڈ لارڈ بغیر معائدہ کیے کرائے دار کو جگہ کرائے پر نہ دے گا۔ جائیداد کا مالک معائدہ کو رینٹ رجسٹرار کے سامنے پیش کرئے گا ۔اور رینٹ رجسٹرار اپنے رجسٹر میں کرایہ داری کی تمام شرائط لکھے گا اور اُس معائدے پر اپنی مہر ثبت کرئے گااور اصل معائدے کی کاپی لینڈلارڈ کو دے دے گا۔کرایہ داری کے معائدے کے بعد ایک قسم کا یہ ثبوت بن جاتا ہے کہ مالک اور کرایہ دار کا رشتہ معرض وجود میں آگیا ہے۔
این ایل آر 2004 سول 702 کے مطابق سول پٹیشن نمبر1704-L آف 2002 جو کہ 20-2-2004 کو ڈسمس ہوئی یہ اپیل ججمینٹ آرڈر بتاریخ 19-4-2002 تھی جو لاہور ہائی کورٹ لاہور نے رٹ پٹیشن نمبر 4407/1996 میں پاس کی تھی کیس کا عنون تھا برکت مسیح بنام منظور احمد متوفی بذریعہ ایل آر ایس اس کیس میں برکت مسیح پٹیشنر تھا اور منظور احمد مرحوم بذریعہ ایل آر ایس ریسپاونڈنٹ تھا کیس کی سماعت مسٹر جسٹس افتخار محمد چوہدری اور مسٹر جسٹس میاں محمد اجمل نے کی (a) کرایہ داری آرڈینس of 1959 VI کے سیکشن 13 کے مطابق مالک اور کرائے دار کے تعلق کو بیان کیا گیا ہے کہ کرایہ دار کی طرف سے مالک کے خلاف سول کیس کا التواء فیصلہ ہونے تک مکان کو کرائے دار سے خالی کراونے سے نہیں روکتا۔(b) سیکشن 13 کے مطابق یہ قانون کا ایک طے شدہ اصول ہے کہ اگر کرئے دار اپنے مالک کے ملکیتی حقوق ماننے سے انکاری ہے تو پھر کرائے دار اس امر کو ہر حال میں یقینی بنائے کہ اُس کے قبضے میں جو جگہ ہے اُس کو مالک کے حوالے کرئے اور پھر ملیکت کے حقوق کے لیے کیس لڑے اور اگر مقدمے کا فیصلہ اُس کے حق میں ہو جاتا ہے تو پھر اُس مقدمے کے فیصلے پر اُسکے تمام تر حالات و واقعات کے مطابق عمل درآمد کروایا جاسکے گا۔ مذکورہ کیس کی سماعت 20-2-2004 کو ہوئی جناب جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنے حکم میں لکھا کہ اِس پٹیشن میں جو نکتہ اُٹھایا گیا ہے وہ یہ ہے کہ 19 اپریل 2002کو ہائی کورٹ نے برکت مسیح کی رٹ پٹیشن کو ڈسمس کردیا تھا۔ (a) اس کیس کے مختصر طور پر حقائق یہ ہیں کہ ریسپاونڈنٹ نے ایک درخواست رینٹ کنٹرولر صاحب لاہورکی خدمت میں1986-87 میں گزار کی۔کہ پٹیشنر کو مکان نمبر 16 گلی نمبر 31 کینال پارک لاہور جو کہ خسر ہ نمبر 1650 پر تعمیر شدہ ہے کے ایک کمرے سے Eject کیا جائے۔ پٹیشنر نے ایجیکٹمینٹ کی کروائی کو کونٹیسٹ کیا جس میں خاص طور پر اس نکتے پر زور دیا گیا کہ دونوں پارٹیوں کے درمیاں مالک اور کرائے دار کا تعلق نہ ہے ۔ رینٹ کنٹرولر صاحب نے مندرجہ ذیل Issue فریم کیے۔ (a)کیا دونوں پارٹیوں کے درمیان مالک اورکرائے دار کا تعلق وجود رکھتا ہے؟ Relief (b) کیا بنتا ہے؟دونوں پارٹیوں نے اپنے اپنے موقف کی حمایت میں شواہد پیش کیے اور 25 جنوری 1992 کو رینٹ کنٹرولر صاحب نے یہ Judgement دے دی کہ پارٹیوں کے درمیان مالک اور کرائے دار کا تعلق موجود ہے۔ پس پٹیشنر کو حکم دیا گیا کہ وہ Premises کو خالی کردے ۔ ایڈیشنل سیش جج صاحب لاہور کے پاس رینٹ کنٹرولر صاحب کے حکم کے خلاف اپیل کی گئی جو کہ18 دسمبر 1995 کو خارج کردی گئی۔ان دونوں احکامات کے خلاف پٹیشنر نے ہائی کورٹ جانے کی Remedy کو استعمال کیا اور آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 199 کے تحت اس کی Jurisdiction کو وجہ تسمیہ بنایا۔لیکن اِس میں بھی پٹیشنرکو کامیابی نہ ہوئی اور یہ پٹیشن بھی 19 مارچ 2002 کو خارج کردی گئی ۔بعدازاں پٹیشن Leave to Appeal کے خلاف دائر کی گئی ہے۔ (4) ریسپا ونڈ نٹ کونسل نے کہا کہ ریسپاونڈنٹ کی ملکیت والی پراپرٹی پر پٹیشنر قابض ہے۔ اور ریسپاونڈنٹ درحقیت اپنے مالک ہونے بناء پر یہ حق رکھتا ہے کہ وہ اِس پراپرٹی کو اپنے قبضہ میں لے۔ 5) ( اپیلیٹ کورٹ اور ہائی کورٹ میں مالک اور کرایہ دار کے تعلق کا سوال اُٹھایا گیا لیکن رینٹ کنٹرولر اُٹھایا گیا لیکن رینٹ کنٹرولر صاحب نے پراپرٹی خالی کروئے جانے کا حکم صادر فرمایا کیونکہ Evication Application میں پراپرٹی کا قبضہ دلوانے کی درخواست کی گئی تھی۔ (6) پٹیشنر کے وکیل صاحب نے تب یہ کہا کہ پارٹیوں کے درمیان Landlord اورTenant کا تعلق وجود میں نہ ہے تاہم پٹیشنر نے پارٹیوں کے حق کا تعین کرنے کے لیے ایک مقدمہ دائر بھی کر رکھا تھا اُس کا استدلال تھا کہ اِس مقدمے کے فیصلے تک Ejectment نہیں ہوسکتی یہ قانون کا طے شدہ اصول ہے کہ اگر کراے دار جو ہے وہ Landlord کے مالکانہ حقوق سے انکاری ہے تو پھر سب سے پہلے متعلقہ پراپڑٹی کا قبضہ مالک کو دے اور اگر وہ عدالت میں اپنی ملکیت ثابت کرکے فیصلہ اپنے حق میں کروالیت ہے تو پھر وہ قانون کے مطابق عملداری عمل میں آئے گی(7) پٹیشنر کے کونسل نے اور کسی نکتے پر بحث نہیں کی۔ بیان کردہ وجوہات کی بناء پر ہم اِس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ پٹیشن میرٹ پر پورا نہیں اُترتی اس لیے اِس کو خارج کیا جاتا ہے اور Leave Decline کی جاتی ہے۔اس کیس میں اجازت دئیے جانے کو Refuseکردیا ۔ 2010 ,CLC,610 کے مطابق ٹرائل کورٹ کی یہ قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ مقدمہ کے حوالے سے اپنے ذہن کو استعمال کریں اگر کوئی مقدمہ قانون کی کسی شق سے متصادم ہے اور قابلِ سماعت نہیں ہے تو ایسے کیس کو فوراً ختم کردینا چاہیے اور لمبے عرصہ کا ٹرائل کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے کیونکہ اِس طرح عدالتوں میں مقدمات کی بھرمار ہوتی چلی جاتی ہے اور عدالتوں پر غیرضروری بوجھ پڑ جاتا ہے۔ اگر صرف ایک قانونی نکتہ مقدمے میں حل طلب ہے تو جج صاحبان اُس کو حل کرکے آغاز میں ہی فیصلہ صادر فرمادیں۔اِس سے فریقین کا قیمتی وقت اور رقم دونوں کی بچت ہوگی۔اسی طرح ہائی کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں قرار دیا ہے کہ جب رینٹ رجسٹرار کسی بھی رینٹ کے معائدہ کو رجسٹرڈ کرتے
وقت کرایہ دار کو بھی نوٹس کرئے تاکہ کرایہ دار اطمینان کرلے کہ معائدہ کی تمام دفعات وہی ہیں جس پر فریقین متفق ہیں۔ کیونکہ کرایہ دار پر متعلقہ پراپرٹی کے حوالے سے Liabilities تو ہے تو پھر کرایہ دار کو رینٹ ایگریمینٹ کے حوالے سے مکمل آگاہی ہونی چاہیے۔ اگر رینٹ رجسٹرار نے کرایہ دار کو ایگریمینٹ رجسٹرد کرنے سے پہلے نو ٹس جاری نہ کیے ہوں تو ایسا معائدہ valid نہ ہوگا۔ اس طرح سیکشن 9 میں یہ درج ہے کہ اگر معائدہ رجسٹرڈ نہ ہو تو پھر مالک جائیداد ایک سال تک بننے والے کرایہ کی رقم کے اوپر دس فی صد رقم بطور Fine عدالت میں جمع کراوتا ہے اُس کے بعد جائیداد کی Ejectement کروانے کے حوالے سے پراسیس شروع ہو جاتا ہے۔ اگر ہم پاکستان کے سماجی مسائل کی طرف نظر دوڑائیں تو یہ با ت روزِ روشن کی طرح عیا ں ہو جاتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں مقدمہ بازی کو اکثر لوگ اتنا طویل کر دیتے ہیں کہ انصاف کے لیے اگر دادا نے کیس کیا ہوتا ہے تو انصاف جا کر کہیں پوتے کی اولاد کو ملتا ہے۔ اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ اگر تاخیر سے انصاف ملے تو ایسے انصاف کا کیا فائدہ۔زمین وغیرہ کے جھگڑے ہمارئے معاشرئے میں نسل در نسل صدیوں تک چلتے ہیں جن لوگوں کا حق ہوتا اُن کو نہیں ملتا اور جنہوں نے حق دینا ہوتا ہے وہ بھی سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر مُلکِ عدم روانہ ہو جاتے ہیں انصاف ہے کہ عام سائل کی پہنچ سے دور اور اشرافیہ کی دسترس میں ہوتا ہے۔ انصاف کے ایوانوں میں انصاف ہی ناپید ہوتا ہے۔ ہاں اشرافیہ انصاف کو بھی ایک Commodity سمجھتے ہوئے اِس کی خریدار بن جاتی ہے۔ پاکستان میں تشدد ، لوٹ مار، عدمِ برداشت یہ سب کیا دھرا انصاف کے میسر نہ آنے کی وجہ سے ہے۔اس لیے جیسے ہی کسان زمیندار کی فصل کاشت ہونے کے قریب ہوتی ہے تو وہ زمیندار یا کسان مقدمہ بازی کے لیے پہلے سے ہی تیار ہوتا ہے۔تعلیم کی کمی۔ قناعت کا نہ ہونا یہ سب کچھ انصاف کی فراہمی نہ ہونے کی وجہ سے ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون نگار میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ گزشتہ دو دہائیوں سے سماجی قانونی معاشی موضوعات پر لکھتے ہیں قانون و معاشیات کے اُستاد ہیں ہائی کورٹ میں وکالت کرتے ہیں برصغیر کی عظیم روحانی شخصیت حضرت میاں وڈا صاحبؒ کے خانوادے سے تعلق ہے۔آپ ایم ایس سی معاشیات، ایم ایس سی ایجوکیشن، ایم بی اے فنانس،ایل ایل بی،ایل ایل ایم, اے سی ایم اے (P)I- ڈپلومہ ان اسلامک لاء ، ڈپلومہ ان انفارمیشن ٹیکنالوجی،ڈپلومہ ان بینکنگ کے حامل ہیں۔اور Txdla آف
امریکہ کے
ایسوسی ایٹ ممبر ہیں۔

No comments:

Post a Comment